Friday, 6 February 2015

نامحرم عورت و مرد کا انٹرنیٹ مکالمہ حرام ہے،سعودی عالم دین کا فتویٰ

سعودی عرب کے ایک ممتاز عالم دین اور علماء کونسل کے سینئر رکن الشیخ عبداللہ المطلق نے غیر محرم عورت مرد کی انٹرنیٹ چیٹ کو خلوت صحیحہ سے تعبیر کرتے ہوئے حرام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا شیطانی افکار و خیالات کو فروغ دینے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے، مسلمان نوجوانوں کو اس کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔سعودی میڈیا کے مطابق ممتاز سعودی عالم دین اور علماء کونسل کے سینئر رکن الشیخ عبداللہ المطلق کا ایک نیا فتویٰ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے غیر محرم عورت مرد کی انٹرنیٹ چیٹ کو خلوت صحیحہ سے تعبیر کرتے ہوئے حرام قرار دیا ہے۔اپنے فتویٰ میں سعودی علماء
کونسل کے رْکن الشیخ المطلق کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی نامحرم مرد کا نامحرم خاتون کے ساتھ تنہائی میں مْکالمہ \'غیر شرعی\' ہے۔ سماجی میڈیا کے ذریعے نامحرم مرد و زن کے مابین چیٹنگ کے دوران شیطان انہیں گمراہ کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں وہ کسی غلط کام میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض اوقات مرد و زن چیٹنگ کے دوران غیر محرموں سے ایسی باتیں بھی کہہ بیٹھتے ہیں جنہیں وہ یا اور ان کا رب جانتا ہے۔ خاص طور پر خواتین کے ساتھ چیٹنگ کے دوران شیطان مردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ میں خاص طور پر خواتین کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اجنبی اور نامحرم مردوں کے ساتھ انٹرنیٹ پر کسی بھی قسم کی بات چیت سے سختی سے گریز کریں۔

No comments:

Post a Comment