سگریٹ نوشی کے صحت کے لئے بے شمار نقصانات کے متعلق ہر کوئی جانتا ہے مگر اب پہلی دفعہ ایک سائنسی تحقیق میں یہ معلوم ہوا ہے کہ سگریٹ نوشی دماغ کے اس حصے کو باریک کردیتی ہے جو سوچ بچار اور یادداشت کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سگریٹ نوش ان صلاحیتوں میں سخت کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے۔
دماغ کی بیرونی سطح کورٹیکس کہلاتی ہے اور سمجھنے بوجھنے، زبان اور یادداشت سے متعلق افعال کا اس کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا اور کینیڈا کی یونیورسٹی آف مانٹریال کی مشترکہ تحقیق میں 244 مردوں اور 260 خواتین کے دماغوں کے ایم آر آئی ٹیسٹ کئے گئے۔ ان افراد کی اوسط
عمر 83 سال تھی ان میں سے جو لوگ انتہائی یا اوسط درجے کے سگریٹ نوش تھے ان میں کورٹیکس کی موٹائی واضح طور پر کم پائی گئی جبکہ ان میں متعدد دماغی افعال کے لئے استعمال ہونے والے گرے میٹر کی مقدار بھی کم تھی۔
عمر 83 سال تھی ان میں سے جو لوگ انتہائی یا اوسط درجے کے سگریٹ نوش تھے ان میں کورٹیکس کی موٹائی واضح طور پر کم پائی گئی جبکہ ان میں متعدد دماغی افعال کے لئے استعمال ہونے والے گرے میٹر کی مقدار بھی کم تھی۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ سگریٹ نوشی ترک کرچکے تھے ان میں کورٹیکس کی موٹائی دوبارہ بڑھ رہی تھی، البتہ یہ مثبت علامت دماغ کے تمام حصوں میں دکھائی نہیں دی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جوانی میں سگریٹ نوشی کرنے والے بڑھاپے میں کورٹکس کی موٹائی میں کمی کا نسبتاً کم شکار ہوتے ہیں لیکن جیسے جیسے ان کی عمر بڑھتی جاتی ہے مسئلہ شدت اختیار کرتا جاتا ہے البتہ سگریٹ نوشی ترک کردینے والوں میں وقت کے ساتھ بہتری آتی جاتی ہے۔

No comments:
Post a Comment