تمام اراکین سے یکساں سلوک ہوگا بغیر باری کے اجازت نہیں دی جاسکتی، سپیکر
کاجواب
قومی اسمبلی میں سپیکر سردار ایاز صادق اور شیخ رشید کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی‘ ایوان کے تقدس کو پامال کرنے والے شخص کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے بغیر مائیک کے چیختے ہوئے کہا کہ آپ اس کے اہل ہی نہیں ہیں‘ تین بار ہال سے جاتے جاتے واپس آئے‘ قائد حزب اختلاف کی استدعاء پر 2 منٹ کا وقت دیا گیا۔ منگل کے روز اس وقت قومی اسمبلی میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا جب قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی
تقریر کے بعد شیخ رشید نکتہ اعتراض پر بات کرنا چاہتے تھے مگر سپیکر قومی اسمبلی مصر تھے کہ فی الوقت نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی مگر وہ پھر بھی بات کرنے پر بضد تھے اور بغیر مائیک کے چیختے ہوئے کہا کہ دو ماہ سے بات کرنا چاہتا ہوں مگر موقع نہیں دیا جارہا جس پر سپیکر نے کہا کہ گذشتہ روز مغرب کے بعد آپ کا وقت نکالا مگر آپ خود ہی چلے گئے‘ تمام اراکین کیساتھ یکساں سلوک ہوگا بغیر باری کے اجازت نہیں دی جاسکتی جس پر جیسے ہی ایوان سے احتجاجاً جانے لگے تو قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے استدعاء کی کہ انہیں بات کرنے دی جائے جس پر ایاز صادق نے کہا کہ شیخ رشید اپنی باری سے پہلے بات کرنا چاہتے ہیں مگر یہ درست نہیں جس پر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ بطور قائد حزب اختلاف تمام اپوزیشن اراکین کے حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے چاہے وہ رکن میرے خلاف ہی بات کیوں نہ کرے جس پر سپیکر نے کہا کہ مذکورہ رکن آپ کیخلاف نہیں پوری پارلیمنٹ کیخلاف بات کرچکے ہیں۔ اس موقع پر ایوان میں ’’شیم شیم‘‘ کے نعرے لگے البتہ بعدازاں انہیں نکتہ اعتراض پر 2 منٹ بولنے ک اجازت دی گئی۔ جب ان کا مائیک آن کیا گیا تو انہوں نے زیادہ بات کرنے پر اصرار کیا‘ اجازت نہ ملنے پر وہ واک آؤٹ کرنا چاہتے تھے کہ قائد حزب اختلاف کی مداخلت پر انہیں وقت دیا گیا جس میں انہوں نے ایوان کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ ملک میں شیعہ سنی مسئلہ بڑھ رہا ہئے اور دونوں فرقوں کے لوگ ایک دوسرے کے جنازے تک نہیں پڑھتے جس پر ایوان میں اراکین نے مخالفت کردی اور کہا کہ یہ بات حقائق کے برعکس ہے۔ اس موقع پر شیخ رشید نے مطالبہ کیا کہ حکومت سنی‘ شیعہ قیادت کو ملاکر ایک یکجہتی کونسل تشکیل دے جبکہ ملک میں داعش کا خطرہ بھی سر اٹھا رہا ہے۔ امریکہ نے طالبان کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کردی ہے ہمیں اس جانب بھی غور کرنا ہوگا۔ شیخ رشید کے بعد سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ شیخ رشید معزز رکن ہیں انہوں نے جس طرح پارلیمنٹ اور اراکین پارلیمنٹ کیخلاف زبان استعمال کی ہے انہیں یہ الفاظ واپس لینے چاہئیں اور آئندہ اس طرح کے بیانات سے گریز کرنا چاہئے۔ بطور سپیکر کسی بھی ایسے شخص کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرے۔ اس موقع پر ایک مرتبہ پھر ’’شیم شیم‘‘ کے نعرے لگنے شروع ہوگئے لیکن سپیکر نے خاموش کرادیا
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد کو بولنے کی اجازت دینے سے گریز ،شیخ رشید نے ہنگامہ کھڑا کر دیا،اپوزیشن لیڈر خورشیدشاہ اور وزیر مملکت شیخ آفتاب کے کہنے پر اجازت دیدی جبکہ شیخ رشید نے سنی شیعہ علماء کا یکجہتی فورم بنانے کی تجویز دیدی۔ منگل کو قومی اسمبلی میں شیخ رشید نے ایوان میں بات کرنے کیلئے اجازت نہ ملنے پر ہنگامہ کھڑا کردیا‘ قائد حزب اختلاف کی استدعاء پر اجازت دی گئی‘ شیخ رشید نے کہا کہ ملک کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہے‘ کوئی سنی شیعہ اور کوئی شیعہ سنی کا جنازہ پڑھنا گوارہ نہیں کرتا‘ سنی شیعہ علماء پر مشتمل کونسل بنائی جائے‘ داعش کا خطرہ سر اٹھا رہا ہے‘ امریکہ نے اپنی طالبان بارے پالیسی تبدیل کردی ہے ہمیں اس بارے غور کرنا ہوگا۔شیخ رشید نکتہ اعتراض پر بات کرنا چاہتے تھے لیکن سپیکر نے اجازت نہ دی جس پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے احتجاجاً کہا کہ گذشتہ دو ماہ سے میرے ساتھ زیادتی ہورہی ہے جس پر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی مطالبہ کیا کہ شیخ رشید کو وقت دیا جائے کیونکہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ اپوزیشن اراکین کے حقوق کا تحفظ کروں اس موقع پر شیخ آفتاب نے بھی مطالبہ کیا کہ شیخ رشید کو وقت دیا جائے جس پرشیخ رشید کا مائیک آن کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر بات نہیں کروں گا میں نے بات کرنی ہے لہٰذا مجھے تفصیلی بات کرنے دی جائے۔ شیخ رسید نے کہا کہ کراچی میں آج بھی ایک سکول میں تباہی ہوتے ہوتے بچی ہے۔ شیعہ سنی کا جنازہ نہیں پڑھتے اور سنی شیعہ کا جنازہ نہیں پڑھ رہے‘ علماء کی یکجہتی کا فورم بنایا جائے۔ داعش کا خطرہ سر اٹھا رہا ہے۔ شیعہ سنی قیادت کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ نے طالبان کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اس حوالے سے ہمیں غور کرنا چاہئے۔
Courtesy By:
کاجواب
قومی اسمبلی میں سپیکر سردار ایاز صادق اور شیخ رشید کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی‘ ایوان کے تقدس کو پامال کرنے والے شخص کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے بغیر مائیک کے چیختے ہوئے کہا کہ آپ اس کے اہل ہی نہیں ہیں‘ تین بار ہال سے جاتے جاتے واپس آئے‘ قائد حزب اختلاف کی استدعاء پر 2 منٹ کا وقت دیا گیا۔ منگل کے روز اس وقت قومی اسمبلی میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا جب قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی
تقریر کے بعد شیخ رشید نکتہ اعتراض پر بات کرنا چاہتے تھے مگر سپیکر قومی اسمبلی مصر تھے کہ فی الوقت نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی مگر وہ پھر بھی بات کرنے پر بضد تھے اور بغیر مائیک کے چیختے ہوئے کہا کہ دو ماہ سے بات کرنا چاہتا ہوں مگر موقع نہیں دیا جارہا جس پر سپیکر نے کہا کہ گذشتہ روز مغرب کے بعد آپ کا وقت نکالا مگر آپ خود ہی چلے گئے‘ تمام اراکین کیساتھ یکساں سلوک ہوگا بغیر باری کے اجازت نہیں دی جاسکتی جس پر جیسے ہی ایوان سے احتجاجاً جانے لگے تو قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے استدعاء کی کہ انہیں بات کرنے دی جائے جس پر ایاز صادق نے کہا کہ شیخ رشید اپنی باری سے پہلے بات کرنا چاہتے ہیں مگر یہ درست نہیں جس پر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ بطور قائد حزب اختلاف تمام اپوزیشن اراکین کے حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے چاہے وہ رکن میرے خلاف ہی بات کیوں نہ کرے جس پر سپیکر نے کہا کہ مذکورہ رکن آپ کیخلاف نہیں پوری پارلیمنٹ کیخلاف بات کرچکے ہیں۔ اس موقع پر ایوان میں ’’شیم شیم‘‘ کے نعرے لگے البتہ بعدازاں انہیں نکتہ اعتراض پر 2 منٹ بولنے ک اجازت دی گئی۔ جب ان کا مائیک آن کیا گیا تو انہوں نے زیادہ بات کرنے پر اصرار کیا‘ اجازت نہ ملنے پر وہ واک آؤٹ کرنا چاہتے تھے کہ قائد حزب اختلاف کی مداخلت پر انہیں وقت دیا گیا جس میں انہوں نے ایوان کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ ملک میں شیعہ سنی مسئلہ بڑھ رہا ہئے اور دونوں فرقوں کے لوگ ایک دوسرے کے جنازے تک نہیں پڑھتے جس پر ایوان میں اراکین نے مخالفت کردی اور کہا کہ یہ بات حقائق کے برعکس ہے۔ اس موقع پر شیخ رشید نے مطالبہ کیا کہ حکومت سنی‘ شیعہ قیادت کو ملاکر ایک یکجہتی کونسل تشکیل دے جبکہ ملک میں داعش کا خطرہ بھی سر اٹھا رہا ہے۔ امریکہ نے طالبان کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کردی ہے ہمیں اس جانب بھی غور کرنا ہوگا۔ شیخ رشید کے بعد سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ شیخ رشید معزز رکن ہیں انہوں نے جس طرح پارلیمنٹ اور اراکین پارلیمنٹ کیخلاف زبان استعمال کی ہے انہیں یہ الفاظ واپس لینے چاہئیں اور آئندہ اس طرح کے بیانات سے گریز کرنا چاہئے۔ بطور سپیکر کسی بھی ایسے شخص کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرے۔ اس موقع پر ایک مرتبہ پھر ’’شیم شیم‘‘ کے نعرے لگنے شروع ہوگئے لیکن سپیکر نے خاموش کرادیا
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد کو بولنے کی اجازت دینے سے گریز ،شیخ رشید نے ہنگامہ کھڑا کر دیا،اپوزیشن لیڈر خورشیدشاہ اور وزیر مملکت شیخ آفتاب کے کہنے پر اجازت دیدی جبکہ شیخ رشید نے سنی شیعہ علماء کا یکجہتی فورم بنانے کی تجویز دیدی۔ منگل کو قومی اسمبلی میں شیخ رشید نے ایوان میں بات کرنے کیلئے اجازت نہ ملنے پر ہنگامہ کھڑا کردیا‘ قائد حزب اختلاف کی استدعاء پر اجازت دی گئی‘ شیخ رشید نے کہا کہ ملک کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہے‘ کوئی سنی شیعہ اور کوئی شیعہ سنی کا جنازہ پڑھنا گوارہ نہیں کرتا‘ سنی شیعہ علماء پر مشتمل کونسل بنائی جائے‘ داعش کا خطرہ سر اٹھا رہا ہے‘ امریکہ نے اپنی طالبان بارے پالیسی تبدیل کردی ہے ہمیں اس بارے غور کرنا ہوگا۔شیخ رشید نکتہ اعتراض پر بات کرنا چاہتے تھے لیکن سپیکر نے اجازت نہ دی جس پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے احتجاجاً کہا کہ گذشتہ دو ماہ سے میرے ساتھ زیادتی ہورہی ہے جس پر قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی مطالبہ کیا کہ شیخ رشید کو وقت دیا جائے کیونکہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ اپوزیشن اراکین کے حقوق کا تحفظ کروں اس موقع پر شیخ آفتاب نے بھی مطالبہ کیا کہ شیخ رشید کو وقت دیا جائے جس پرشیخ رشید کا مائیک آن کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر بات نہیں کروں گا میں نے بات کرنی ہے لہٰذا مجھے تفصیلی بات کرنے دی جائے۔ شیخ رسید نے کہا کہ کراچی میں آج بھی ایک سکول میں تباہی ہوتے ہوتے بچی ہے۔ شیعہ سنی کا جنازہ نہیں پڑھتے اور سنی شیعہ کا جنازہ نہیں پڑھ رہے‘ علماء کی یکجہتی کا فورم بنایا جائے۔ داعش کا خطرہ سر اٹھا رہا ہے۔ شیعہ سنی قیادت کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ نے طالبان کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اس حوالے سے ہمیں غور کرنا چاہئے۔
Courtesy By:

No comments:
Post a Comment