اپنی نوعیت کے انوکھے اور پہلے کیس میں ایک برطانوی خاتون اپنی مردہ بیٹی کے بچے کو جنم دینے کی تیاری کررہی ہے اور اس مقصد کو قانونی شکل دینے کے لئے اس نے تمام لوازمات پورے کر لئے ہیں۔59سالہ خاتون اور اس کا شوہر جس کا نام ابھی تک ظاہر نہیں کیا گیا ہے نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی مرحوم بیٹی کی یہ آخری خواہش تھی کہ اس کا انڈہ لے کر کسی اور سپرم کا استعمال کرتے ہوئے اسے اس کی ماں کے پیٹ میں رکھا جائے تا کہ اس کا بچہ بھی اس دنیا میں آسکے۔لیکن اس کے اس اعلان پر برطانیہ میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے اور کچھ سیاست دانوں نے اس پر تنقید کی ہے جب کہ کچھ اس فیصلے کے حق میں آگے آگئے ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرحومہ لڑکی ان کی اکلوتی اولاد تھی اور چار سال قبل آنتوں کے کینسر کی وجہ سے جوانی میں ہی فوت ہوگئی تھی۔اپنی بیماری کے دوران ہی اس نے اپنا انڈہ یہ سوچتے ہوئے محفوظ رکھوا دیا تھا کہ صحت مند ہوکر وہ بچے کو جنم دے گی لیکن اس کی موت واقع ہوگئی لیکن اس کی ماں نے اس انڈے کے ذریعے اپنا نواسہ یا نواسی پیدا کرنے کا بیڑااٹھایالیکن اس کے سامنے یہ مشکل درپیش ہے کہ برطانوی قانون اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتا لہذا اس نے یہ انڈہ نیویارک برآمدکرنے کی درخواست کردی ہے جہاں92ہزار ڈالر(تقریباً92لاکھ روپے)کے اخراجات سے اس کا خواب پورا کیا جائے گا۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمر میں زچہ وبچہ کو کئی طرح کی پیچیدگیوں کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن خاتون اور اس کا شوہر اس بات سے بے نیاز ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنی بیٹی کی آخری خواہش پوری کریں۔لیکن اب ان کے سامنے ایک مشکل درپیش ہے کہ Human Fertility and Embryology Authority (HFEA) نے اس خاتون کی بیٹی کا انڈہ امریکہ برآمد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں واضح اعلان موجود نہیں ہے لیکن دونوں میاں بیوی نے برطانوی ہائی کورٹ سے رابطے کا اعلان کردیا ہے۔
Courtesy By

No comments:
Post a Comment